علی گڑھ،7؍ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا) نڈر اور بے باک خاتون صحافی گوری لنکیش کا بہیمانہ قتل کسی بھی ملک کے لئے بے حد شرمناک اور افسوسناک ہے۔ اس واردات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ ہندی کے اساتذہ نے ایک بیان میں مذکورہ ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ سوال صرف ایک صحافی کے قتل کا نہیں ہے ،بلکہ ایک لامتناہی سلسلہ کا ہے۔ یہ قتل ڈابھولکر، پنسارے اور کُلبرگی جیسے دانشوروں کے قتل کی ایک شرمناک کڑی ہے۔ یہ ملک میں حکمرانی اور سلامتی کے کمزور نظام کا اشارہ بھی ہے۔ انھوں نے سوال کرتے ہوئے کہاکہ سچ کا سامنا کرانے والوں کو ٹھکانہ لگانا اور بے شرمی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے اسے نظرانداز کرنا یا اس پر پر اکڑفوں دکھانا کون سی ہندوستانی تہذیب ہے؟ ۔مشترکہ طور سے مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے پروفیسر رمیش راوت، پروفیسر کملا نند جھا، پروفیسر وید پرکاش، پروفیسر پردیپ سکسینہ، پروفیسر عاشق علی، پروفیسر عفت اصغر، پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری، شہباز علی خاں، دیپ شکھا سنگھ، واجد رشید خان، جاوید عالم، نیلوفر عثمانی اور غلام فرید صابری نے کہا کہ ہم سبھی دانشور ایسے سنگین مجرمانہ ماحول اور اس کی حوصلہ افزائی کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مجرموں کو گرفتار کرنے اور انھیں کیفرکردار تک پہنچانے کی اپیل کرتے ہیں۔